ترے ملنے کو بے کل ہوگئے ہیں
مگر یہ لوگ پاگل ہوگئے ہیں
بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں
یہاں تک بڑھ گئے آلام ہستی
کہ دل کے حوصلے شل ہوگئے ہیں
کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں
نگاہ یاس کو نیند آ رہی ہے
مژہ پر اشک بوجھل ہو گئے ہیں
انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل ہوگئے ہیں
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں
---------------------------------------------------------------
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہ
جاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہے
وہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
---------------------------------------------------------------
تصویر پہ جاری ہے مصور کی تگ و دو
بس ہونے کو ہے شکل میں ترمیم مکمل
---------------------------------------------------------------
مشکوک سا رہتا ہے مِری ذات کے بارے!
کرتا ہی نہیں مجھ کو وہ تسلیم مکمل💔
---------------------------------------------------------------
میں نے کرنی ہے کئی راز کی باتیں تم سے...🌼🌿
کیا خواب کے علاوہ کہیں مل سکتے ہیں ہم....🩶